اتوار، 5 جولائی، 2026

رشتے اور فاصلے — جب خاموشی الفاظ سے زیادہ بولتی ہے

 ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں رابطے تو بہت آسان ہو گئے ہیں، لیکن رشتوں میں گہرائی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ موبائل کی ایک اسکرین پر ہزاروں لوگ ہمارے ساتھ جڑے ہیں، مگر جب دل کا حال سنانے کی باری آئے تو انسان خود کو بالکل اکیلا پاتا ہے۔ زندگی کا سب سے بڑا دکھ یہ نہیں ہوتا کہ کوئی اجنبی آپ کو تکلیف پہنچائے، بلکہ اصل دکھ تب ہوتا ہے جب وہ انسان آپ کو نہ سمجھ پائے جس کے لیے آپ نے اپنی ذات کو بھی بھلا دیا ہو۔


کبھی کبھی ہم رشتوں کو بچانے کے لیے حد سے زیادہ بولتے ہیں، وضاحتیں دیتے ہیں، اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم غلط نہیں ہیں۔ لیکن ایک وقت ایسا آتا ہے جب انسان تھک جاتا ہے۔ اسے سمجھ آ جاتی ہے کہ جہاں الفاظ کی قدر نہ ہو، وہاں خاموشی ہی سب سے بڑا جواب ہوتی ہے۔ جب کسی رشتے میں خاموشی جگہ بنا لے، تو وہ ناراضگی نہیں ہوتی، بلکہ وہ رشتوں کے درمیان بڑھنے والے اس فاصلے کا سچ ہوتی ہے جسے اب الفاظ سے نہیں بھرا جا سکتا۔


مشہور صوفی اور مفکر رومی نے ایک جگہ فرمایا تھا: "خاموشی خدا کی زبان ہے، باقی سب کچھ ناقص ترجمہ ہے۔" جب انسان رشتوں کے تماشے سے تھک کر خاموش ہوتا ہے، تو وہ اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیتا ہے۔ رشتوں کو زبردستی کھینچنے سے بہتر ہوتا ہے کہ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ کبھی کبھی فاصلے رشتوں کو ختم کرنے کے لیے نہیں، بلکہ ان کی اصل حقیقت کو پہچاننے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔


زندگی بہت مختصر ہے اور امیدوں کا سفر بہت طویل۔ ہر اس شخص کے پیچھے بھاگنا چھوڑ دیں جو آپ کی موجودگی کی قدر نہیں کرتا۔ رشتوں میں ظرف یہ نہیں کہ آپ ہر وقت بحث جیتیں، بلکہ ظرف یہ ہے کہ جہاں آپ کی عزتِ نفس پر بات آئے، وہاں مسکرا کر خاموشی سے پیچھے ہٹ جائیں۔ اپنی محبت اور اپنے الفاظ صرف ان کے لیے بچا کر رکھیں جو آپ کی خاموشی کو بھی پڑھنا جانت

ے ہوں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

کامیابی کا اصل راز: اپنی سوچ کا رخ بدلیں

کامیابی کا اصل راز اپنی سوچ کا رخ بدلیں زندگی میں ہر انسان آگے بڑھنا چاہتا ہے لیکن اکثر ہم اپنی ہی نادانی، بے صبری اور جلد بازی کی وجہ...